Skip to main content

تعارف

جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کا تعارف، مقاصد اور مشن۔

دینی مدارس برصغیر کی علمی، دینی اور تہذیبی شناخت کا ایک مضبوط ستون ہیں۔ صدیوں سے یہ ادارے ایسے علماء، فقہاء، مفسرین، محدثین، خطباء اور داعیانِ اسلام تیار کرتے رہے ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کیا، اسلامی تہذیب و اقدار کی حفاظت کی اور ہر دور میں امتِ مسلمہ کی دینی، فکری اور اخلاقی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اسلامی علوم کی بقا، دعوتِ دین کے فروغ اور معاشرتی اصلاح میں دینی مدارس کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔

آج جب امتِ مسلمہ کو فکری انتشار، اخلاقی بحران، تعلیمی چیلنجز، سماجی تبدیلیوں، ڈیجیٹل انقلاب اور عالمی سطح پر نت نئے مسائل کا سامنا ہے، جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان پہلے سے زیادہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ دینی مدارس کے نوجوان اگر علم، حکمت، کردار، اعتدال، قیادت اور اجتماعی شعور سے آراستہ ہوں تو وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی وژن کے ساتھ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان آج بھی اپنے دستور، اخلاص، شورائیت، اعتدال اور خدمتِ دین کے جذبے کو بنیاد بنا کر ایک ایسے باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان طبقے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے جو علم و عمل، تحقیق و دعوت، قیادت و خدمت اور اتحادِ امت کی بہترین روایت کا امین ہو۔

نصب العین

قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی اور بندگان خدا کی زندگی کی تعمیر کرتے ہوئے رضائی الہی کا حصول۔

جمعیت کے رہنماء اصول

جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے دینی اور فکری مآخذ قرآن وسنت ہیں جن سے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سلف صالحین کی تشریحات کی روشنی میں وہ رہنمائی حاصل کرتی رہے گی۔

جمعیت کا طریقہ کار

  • طلبہ کو اسلام کا تحقیقی علم حاصل کرنے اور اس کو عملا اپنانے کی دعوت دینا۔
  • دینی مدارس کے ایسے طلبہ جو عقائد اسلام کے تحفظ اور قرآن وسنت کے مطلوبہ انقلاب امامت کا جذبہ رکھتے ہوں جمعیت کے تحت منظم کرنا۔
  • جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان سے وابستہ طلبہ کے لیے اسلام اور جدید علوم کے گہرے مطالعے، اخلاق و کردار کی تطہیر و تعمیر تحریری و تقریری، ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے فروغ کا مؤثر انتظام کرنا۔
  • اختلافی مسائل میں طلبہ کے اندر اعتدال پیدا کرنا اور انہیں فرقہ واریت، شخصیت پرستی، سیاسی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر رکھتے ہوئے اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ أخوة کا مصداق بنانا اور اسلامی انقلاب پر پا کرنے کے لیے منظم ہر اول دستہ بنانا۔
  • پاکستان میں نظام تعلیم کو مکمل طور پر اسلامی تقاضوں کے مطابق بنانے کی جدو جہد کرنا۔ مدارس عربیہ کے طلبہ کے جائز مطالبات اور مسائل حل کرانے کے لیے بھر پور کوشش کرنا۔