اصطلاحاتِ جمعیت
نصب العین
قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی اور بندگانِ خدا کی زندگی کی تعمیر کرتے ہوئے رضائے الٰہی کا حصول۔
حامی
ہر وہ طالب علم جو جمعیت کی دعوت سے متاثر ہو اور اس کی سرگرمیوں سے اتفاق رکھتا ہو، جمعیت کا حامی فارم پُر کرے تو وہ جمعیت کا حامی ہوتا ہے۔
رفیق
ہر وہ طالب علم جو جمعیت کے نصب العین اور طریقۂ کار سے صدقِ دل سے متفق ہو، قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور اپنی عملی زندگی میں جمعیت کے نصب العین کے حصول کی جدوجہد کرے، وہ جمعیت کا رفیق ہوتا ہے۔
رکن
ہر وہ طالب علم جو شعور کی پختگی کے ساتھ جمعیت کے نصب العین اور طریقۂ کار کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے اور اس کا عمل اس کی تائید کرتا ہو، جمعیت کے قواعد و ضوابط کا مکمل پابند ہو، دینی فرائض کی پابندی کرتا ہو اور کبائر سے اجتناب کرنے والا ہو، اور کسی ایسی تنظیم سے وابستہ نہ ہو جس کے اغراض و مقاصد جمعیت کے طریقۂ کار اور نصب العین سے متصادم ہوں، وہ جمعیت کا رکن ہوتا ہے۔
حلقۂ حامیان
ہر وہ مقام جہاں باقاعدہ تین حامی موجود ہوں اور باقاعدگی سے پروگرامات ہوتے ہوں، اس حلقہ کو حلقۂ حامیان کہا جاتا ہے۔
حلقۂ رفاقت
جس حلقہ میں جمعیت کے تین یا تین سے زیادہ رفقاء موجود ہوں، اس حلقہ کو حلقۂ رفاقت کہا جاتا ہے۔
مقامی جمعیت
ہر وہ حلقہ جہاں جمعیت کے تین یا تین سے زیادہ ارکان موجود ہوں، اس مقام کو مقامی جمعیت کہا جاتا ہے۔
منتظمِ اعلیٰ
ہر تنظیم کو ایک امیر یا سربراہ چلاتا ہے۔ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے ارکان اپنے میں سے ایک نیک سیرت، دیانت دار اور قوتِ فیصلہ رکھنے والے رکن کو اپنا امیر مقرر کرتے ہیں، جسے منتظمِ اعلیٰ کہا جاتا ہے۔ اس کی مدتِ ذمہ داری ایک سال ہوتی ہے، تاہم ایک ہی شخص کو بار بار منتخب کیا جا سکتا ہے۔
امینِ عام
منتظمِ اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان تنظیم کو چلانے کے لیے ہر سال مرکزی شوریٰ کے مشورے سے ایک شخص کو اپنے لیے معاون مقرر کرتا ہے، جو ہر معاملے میں منتظمِ اعلیٰ کا معاون ہوتا ہے۔ اسے امینِ عام کہا جاتا ہے۔ اس کی مدت بھی ایک سال ہوتی ہے اور ایک ہی شخص کو بار بار امینِ عام مقرر کیا جا سکتا ہے۔
مرکزی شوریٰ
جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان اپنے معاملات مرکزی شوریٰ کے مشورے سے چلاتی ہے۔ مرکزی شوریٰ کے ارکان کا انتخاب براہِ راست ارکان کے ذریعے ہوتا ہے اور یہ انتخاب بھی ایک سال کے لیے ہوتا ہے۔ ارکان کی تعداد کے لحاظ سے اس وقت شوریٰ کے دس ارکان منتخب ہوتے ہیں جبکہ تین ارکان کو منتظمِ اعلیٰ اپنی صوابدید پر مقرر کر سکتا ہے۔ منتظمِ اعلیٰ بر بنائے عہدہ شوریٰ کا صدر اور امینِ عام بر بنائے عہدہ مرکزی شوریٰ کا رکن ہوتا ہے۔
پرچمِ جمعیت
جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان 13 جنوری 1975ء کو وجود میں آئی تاہم پرچم کا انتخاب 1987ء کی مرکزی شوریٰ میں کیا گیا جبکہ پرچم کشائی 1987ء کے سالانہ اجتماع منعقدہ مردان میں کی گئی۔ جمعیت کا پرچم اس کی دعوت، نصب العین، راہِ منزل اور عزم و روایات کا آئینہ دار ہے۔
- آسمانی رنگ: آسمان کی بلندی و وسعتوں کا مظہر ہے۔ دنیا اور آخرت پر محیط بلند و بالا مقاصد و عزائم کا مظہر ہے۔
- سرخ رنگ: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے راستے کے اختیار کا اعلان ہے تاکہ بندگانِ خدا کے درمیان انصاف قائم ہو۔ یہ جہاد اور شوقِ شہادت کی علامت ہے۔
- سبز رنگ: سرسبز و شاداب گنبد خضریٰ کا نشان ہے جو ہماری منزل ہے اور دنیا میں ایمان و عمل کی تازگی کی علامت ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ رنگ اور پاکستان کے قومی پرچم کا رنگ ہے۔
- سفید رنگ: چاند اور ستارے کی سفید رنگت امنِ عالم کی خواہش اور پاکیزہ تعلقات کی علامت ہے۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ رنگ ہے۔
- اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ: امتِ مسلمہ کے باہمی بھائی چارے کی دعوت ہے۔ اخوت کی عملی تصویر بن کر ہی بنیانِ مرصوص کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔
چاند اور تارا
فضا میں بلند ہوتا ہوا چاند اس یقین کی علامت ہے کہ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان ماہِ کامل بن کر چمکے گی۔ چاند مسلمانوں کا تاریخی نشان ہے جبکہ ستارے کے پانچ کونے جمعیت کے پانچ نکاتی پروگرام کی طرف اشارہ ہیں۔
مونوگرام
- پانچ کونے: جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے پانچ نکاتی پروگرام کے مظہر ہیں۔
- چاند تارا: ہمارا قومی نشان ہے اور مونوگرام میں جمعیت کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔
- سرخ رنگ: جمعیت کے گرم اور جوان لہو کی قربانی کا مظہر ہے۔
- آسمانی رنگ: دعوت، اخوت اور محبت کی وسعتوں کی علامت ہے جو آسمان کی وسعتوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔